احتجاج آئینہ دنیائے مردہ پرست سے

*احتجاج آئینہ مردہ پرست دنیا سے* ۔

دنیائے بے خبر جس آئینے میں اسلام کو دیکھ رہی ہے وہ مردہ پرستی کے سوا کچھ نہیں ۔ اور مردہ پرست دنیا ائمہ علیہم السلام کا کفن نوچ رہی ہے اور کفن چوری کر کے اپنا شکم سیر کر رہی ہے اور جو جس حد تک کفن چوری کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے وہ اس حد تک عزت دار اور شہرت یافتہ ہو رہا ہے ۔ کفن چوری اور مردہ خوری کو اپنا مذہب بنا لیا ہے اور خود کو آلودگی سے تر کر لیا ہے ۔

کوئی مردہ پرست دنیا سے پوچھے کیا ہوتا اگر امام حسین علیہ السلام بے دردی کے ساتھ شہید کیے جانے کے بر عکس زندہ و تابندہ رہ جاتے اور آج تک کی ان کی زندگی ہو جاتی اور وہ قیامت تک موجود رہتے تو لوگ جھگڑا کریں گے اور ہر گز امام حسین علیہ السلام کی زندگی قبول نہیں کریں گے ۔

کیونکہ ان کے گھر کے چولہے امام حسین علیہ السلام کا کفن چوری کر کے جل رہے ہیں ۔

اور جن لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کی مردہ پرستی کرنے کو مذہب بنا لیا ہے وہ زندہ امام قائم علیہ السلام کی زندگی قبول نہیں کر پائے۔

انہوں نے تیاری کر لی ہے کہ کوئی نہ کوئی طریقے سے وہ بھی شہید ہو ہی جائیں گے ۔ یانی کوئی بھی دلیل دے کر اس بات کو جتا دیا ہے کہ زیادہ دن امام قائم علیہ السلام کی زندگی ان کو برداشت نہیں ہو گی۔

امام قائم علیہ السلام کی غیبت کی وجہ کیا ہے ۔ کیوں وہ لوگوں سے ملنا نہیں چاہتے ۔ کیوں انہوں نے دنیا سے بے زاری کا مظاہرہ کیا ۔ کیوں وہ کسی کو بھی نظر نہیں آتے ہیں ۔ ان سب سوالوں کا جواب کیا ہے ؟

پوچھئے کہ گیارہ ائمہ علیہم السلام کے ساتھ دنیا نے کیا سلوک کیا ۔ آج کل تو علم عروج پر ہے اور لوگ انٹرنیٹ پر بہت کچھ ڈھونڈ لیتے ہیں ۔ کیوں ایسا ہے کہ زیادہ تر لوگ ائمہ علیہم السلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں ۔

مولا علی علیہ السلام کا ذکر مناقب میں اور امام حسین علیہ السلام کا ذکر مصائب میں بیان کر کے شکم سیر ہو جاتا ہے اس لئے باقی ائمہ علیہم السلام کا ذکر کسی کے لیے بھی ضروری نہیں ہوا۔

امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے پہلے وہ کیا کرتے رہتے تھے ۔ اچانک سے تو ان کے اوپر دشنی کے پہاڑ نہیں توڑے گئے ہوں گے ۔ ان کو لوگ برداشت کیوں نہیں کر پائے جب کہ یزید ملعون کو برداشت کر لے گئے ۔ کیا کسی کو بھی تلخ حقیقت اور سچا مذہب قبول نہیں تھا ؟

کیا آپ نے ان تلخ حقائق پر نظر ڈالی اور کیا آپ نے میرے ان احتجاجی سوالات کو پر غور و فکر ملاحظہ کیا ؟

کیا آپ اس احتجاج میں شامل ہو جائیں گے ؟ کیونکہ میرے پاس اپنے ہر احتجاج کی وجہ ہے ۔ وہ عشق جو معشوق کو مردہ دیکھ کر کہے کہ کتنا اچھا لگ رہا ہے کربلا میں مجھ اور کتنا سکون مل رہا ہے کربلا میں مجھ کو ۔ کیا ایسا عشق دشمنی سے بدتر نہیں ہے؟

- *عون علی "یمانی"*

Comments