احتجاج آئینہ یمانی

*احتجاج آئینہ یمانی -*

برسوں ہم نے اپنے ہی گھر میں گوشہ نشینی اختیار کر لی اور بظاہر کسی کو بھی اندازہ نہیں ہونے دیا کہ ہم کس وجہ سے گوشہ نشینی ہوئے ہیں ۔

ہم نے اس وقت تک راہ خدا میں مختلف خدمات انجام دی تھیں ۔ ان خدمات کے نتائج میں ہم نے عجیب و غریب قسم کے خواب دیکھے ۔ سب سے زیادہ عجیب خواب وہ تھا کہ جس میں ہم نے دیکھا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہ نے میرے ہاتھوں میں امام حسین علیہ السلام کو سونپ دیا جب کہ دوران خواب امام حسین علیہ السلام شیر خوار بچے کی عمر کے معلوم ہو رہے تھے ۔ اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب وہ خواب تھا کہ جس میں میں دیکھ رہا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کا بریدہ سر خود بخود میرے کھر سے باہر جانے لگا ۔

ان دونوں خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے میں نے ہر ممکن کوشش کی مگر دنیا میں کوئی بھی شخص مجھے صحیح تعبیر نہیں دے سکتا ۔

غور کرنے پر دونوں خواب با مقصد معلوم ہو رہے تھے اس لیے جستجو جاری رہی ۔ تب میں نے ایک اور خواب میں دیکھا کہ میں جس چیز کی تلاش میں ہوں اس کے لیے مجھے قیمت ادا کرنی پڑے گی اور اس کی قیمت دو سو اکسٹھ ہے ۔

اب میرے سامنے دو سو اکسٹھ کا معمہ تھا اور اس معمہ میری تلاش میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لی ۔

میں درگاہ عالیہ نجف ہند پہنچ گیا اسی معمے کا حل تلاش کرنے کے لیے ۔ درگاہ عالیہ میں کمزور و ناتواں لوگوں کے حالات سے دوچار ہو کر ان کے درمیان خدا کے ولی امام قائم علیہ السلام کی ولایت کے عنوان سے عدالت قایم کی ۔ لگ بھگ چالیس دنوں کے بعد مجھے جواب ملا کہ میری ہی روحانیت اس وقت ضعیف اور لاغر ہو گئی تھی اور میں اس کمزوری کی وجہ سے اپنی کمزوریوں سے لڑ سکنے میں ناکام ہو رہا تھا ۔

تب مجھے سات سال کی گوشہ نشینی اختیار کر لینے کی ہدایت حاصل ہوئی اور میں نے وہ ہدایت قبول کر لی ۔

گوشہ نشینی کے دوران میرے روبرو مختلف علوم کے ابواب کھل گئے ۔ علم کتاب لاریب، علم حدیث،  علم تاریخ، مختلف زبانوں کا علم، مختلف مذاہب کی کتب و ان کے فہم و فراست کا علم، ملک و قوم و ملت و فترت و فلسفہ و منطق کے علوم، علوم سائنس و ٹیکنالوجی و حروف و معنی و لغات و جدید علم حساب وغیرہ کے علوم ۔

سات سال میں سے تین سال تک مکمل گوشہ نشینی تھی اور تین سال تک اس سے کچھ درجے کم ۔ اور باقی بچے ایک سال میں تمام علوم استعمال کر کے ہم نے تمام تر معمے حل کر ڈالے ۔

جب مجھے یہ یقین ہو گیا کہ میں نے سارے معمے صحیح و درست حل کر لیے ہیں تو پھر میں نے حدیث کی کتب میں موجود وہ معمے حل کر لیے جو امام قائم علیہ السلام کی غیبت سے متعلق ہیں اور ہو بھی جو ان کے ظہور سے متعلق ہیں ۔

امام قائم علیہ السلام کے متعلق جتنے بھی معمے تھے وہ سب کتاب لاریب کی مدد کے ساتھ ہی حل ہو سکے۔

ہم نے پھر کتاب لاریب میں پوشیدہ معمے حل کرنے شروع کر دیے ۔ تب کہیں جا کر ہم نے شہر طیبہ کو ڈھونڈ لیا ۔ مگر اس شہر میں داخل ہونے کے لیے ہمیں وہاں کے موجودہ دور کے لوگوں میں سے سب سے زیادہ اچھا گھرانہ چاہیے تھا تاکہ وہ ہماری کسی بھی کوشش میں کم از کم رکاوٹ نہ پیدا کرنے لگیں ۔

یہ مسئلہ بھی امام قائم علیہ السلام نے خواب میں بشارت دے کر حل کر دیا ۔ ہم نے اس پر عمل درآمد بھی کر لیا ۔

جب ہم نے امام قائم علیہ السلام کی بشارت پر عمل درآمد کر لیا تو ہم نے پایا کہ ہمارے خود کے گھر والے اس بات پر ہم سے راضی نہیں تھے ۔ پھر ہم نے اپنے گھر اور اپنی پہچان کو چھوڑ دیا اور لکھ کر شہر کوتوال کو دے دیا کہ ہم نے خود اپنی مرضی سے اپنا گھر اور اپنی پہچان چھوڑ دی ہے ۔

ہم نے شہر طیبہ میں اس کے بعد رہنا شروع کر دیا اور شہر میں موجود نشانیاں تلاش کرتے کرتے خود کو یمانی کی صورت میں پایا ۔

میرا گھریلو نام یاسر تھا اس میں سے اسر میں نے ہٹایا اور امام قائم علیہ السلام نے میرے نام میں ی کے آگے مانی جوڑ دیا ۔ اس طرح میں یمانی ہو گیا ۔

اسر کی قیمت حروف ابجد کے مطابق دو سو اکسٹھ ہوتی ہے ۔ میں نے بالآخر وہ قیمت ادا کر دی اور اس مقام پر پہنچ گیا ہوں جس مقام پر امام حسین علیہ السلام برسوں پہلے مجھے پہچانا چاہتے تھے ۔ طیبہ ۔

*- عون علی " یمانی "*

Comments